ابنا: اطلاعات کے مطابق لبنان کے آٹھ مارچ الائنس کے نامزد وزیر اعظم نجیب میقاتی کو پارلیمنٹ میں اکثرت حاصل ہوگئي ہے اور صدر میشل سلیمان نے انہیں باضابطہ طور پر نئي حکومت تشکیل دینے کے دعوت دی ہے۔انہیں حکومت بنانے کے لیے قومی اسمبلی کے ایک سو اٹھائیس میں سے پینسٹھ ارکان کی حمایت درکار ہے جبکہ انہیں 68 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔میشل سلیمان نے ان کو منگل کے روز حکومت کی تشکیل کی دعوت دی۔منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں پارلیمنٹ کے ایک سو اٹھائیس اراکین میں سے 68 اراکین نے نجیب میقاتی کے حق میں جبکہ ساٹھ اراکین نے ان کے خلاف ووٹ ڈالے۔نجیب میقاتی کے مد مقابل امیدوار سابق وزیراعظم سعد حریری تھے جنہیں حال ہی میں حریری ٹربیونل کے حوالے سے امریکہ اور ٹربیونل کے جھوٹے گواہوں کے ساتھ خفیہ سازباز کرنے کی پاداش میں استعفی دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔نجیب میقاتی اس سے پہلے بھی لبنان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ وہ سنہ 2005 میں رفیق حریری کے قتل کے بعد تین ماہ کے لئے عبوری وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ تفصیل از عالمی اخبار:لبنان کے دروز لیڈر ولید جنبلاط نے حزب اللہ کے حمایت یافتہ سنی سیاستدان نجیب میقاتی کی وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے بعد انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دی گئی ہے جبکہ قائم مقام وزیر اعظم سعد حریری نے حزب اللہ کے نامزد وزیر اعظم کی قیادت میں نئی حکومت میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔حزب اللہ کے حمایت یافتہ نجیب میقاتی کو لبنانی صدر میشل سلیمان کی مختلف پارلیمانی گروپوں سے مشاورت کے بعد نئی حکومت بنانے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہیں حکومت بنانے کے لیے قومی اسمبلی کے ایک سو اٹھائیس میں سے پینسٹھ ارکان کی حمایت درکار ہے۔حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کے ارکان کی تعداد ستاون ہے۔ دروز لیڈر ولید جنبلاط کی قیادت میں بلاک کے ارکان پارلیمان کی تعداد گیارہ ہے۔قبل ازیں قائم مقام وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق 'سعد حریری کی قیادت میں 'مستقبل تحریک' اپوزیشن کے نامزد کردہ امیدوار کی قیادت میں نئی حکومت میں شامل نہیں ہو گی'۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ 'وزارت عظمیٰ کے لیے ایک امیدوار سعد حریری ہیں اور ایک امیدوار کو اپوزیشن نے نامزد کیا ہے اور یہی دو انتخاب ہیں'۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے گذشتہ روز اپنے تئیں سعد حریری کو مصالحت کی پیش کش کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی جماعت اور اس کے اتحادی اپنے سیاسی حریفوں کو نئی کابینہ سے نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ 'اگر ہمارے امیدوار نے پارلیمان میں اکثریت حاصل کر لی تو ہم کسی بھی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے قومی اتحاد کی حکومت بنانا چاہیں گے۔ ہم یک طرفہ حکومت کے قیام یا کسی سیاسی جماعت کو حکومت سے باہر رکھنے کا مطالبہ نہیں کریں گے'۔انھوں نے واضح کیا کہ 'ہم ہر کسی کے حق نمائندگی کا احترام کرتے ہیں اور یہ تمام دعوے کہ حزب اللہ ایک ایرانی یا شیعہ حکومت قائم کرنے جا رہی ہے، گمراہ کن اور غلط ہیں'۔حزب اللہ اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سعد حریری کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے امیدوار نامزد کرنے سے انکار کر دیا تھا جبکہ سعد حریری دوبارہ وزیر اعظم بننے کے خواہاں ہیں اور ان کی جماعت نے انہیں ہی دوبارہ وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
/110